Wednesday, May 1, 2024

سورہ فاتحہ کے بعدآمین آوازسے کہناسنت ہے یاآہستہ؟

 

سورہ فاتحہ کے بعدآمین آوازسے کہناسنت ہے یاآہستہ؟ 




سوال:


کیافرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں سورہ فاتحہ کے بعدآمین آوازسے کہناسنت ہے یاآہستہ؟



جواب نمبر: 175668

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa : 393-317/D=05/1441


نماز میں سورہٴ فاتحہ کے بعد آمین کہنا بالاتفاق مسنون ہے، اور علماء کا اس پر بھی اتفاق ہے کہ سری اور انفرادی نمازوں میں آمین آہستہ کہی جائے گی، جہری نمازوں میں اختلاف ہے، اور یہ اختلاف جواز و عدم جواز کا نہیں، بلکہ اولیٰ و غیر اولیٰ کا ہے، احناف و مالکیہ کے نزدیک جہری نمازوں میں آہستہ آمین کہی جائے گی، احناف کا یہ موقف قرآن و حدیث سے موٴید ہے، لفظ آمین ایک دعا ہے جس کے معنی ہیں: اے اللہ! تو قبول فرما، اور آیت قرآنی سے پتہ چلتا ہے کہ دعا میں اصل اور افضل آہستہ مانگنا ہے، 


قال تعالی: ادعوا ربکم تضرعاً وخفیة ۔



 ترجمہ: پکارو اپنے رب کو گڑگڑا کر اور چپکے سے۔


 ترمذی کی حدیث ہے: 


عن علقمة بن وائل عن أبیہ أن النبي - صلی اللہ علیہ وسلم - قرأ غیر المغضوب علیہم ولا الضالین ، فقال آمین وخفض بہا صوتہ ۔ (ترمذی: ۱/۳۴، باب ما جاء في التأمین، رقم: ۲۴۸) 



امام طبری فرماتے ہیں: اکثر صحابہ و تابعین آہستہ سے کہا کرتے تھے۔ (اعلاء السنن: ۲/۲۲۳)



واللہ تعالیٰ اعلم

مسجد کے آداب

 مسجد کے آداب









1 اللہ کی نظر میں روئے زمین کا سب سے زیادہ بہتر حصہ وہ ہے جس پر مسجد تعمیر کی جائے۔ اللہ سے پیار رکھنے والے کی پہچان یہ ہے کہ وہ مسجد سے بھی پیار رکھتے ہیں۔ قیامت کے ہیبت ناک دن میں جب کہیں کوئی سایہ نہ ہوگا، اللہ اس دن اپنے اس بندے کو اپنے عرش کے سائے میں رکھے گا جس کا دل مسجد میں لگا رہتا ہو۔ نبیؐ کا ارشاد ہے وہ شخص (عرش کے سائے میں ہوگا) جس کا دل مسجد میں لگا رہتا ہو۔ (بخاری)

-2 مسجد کی خدمت کیجیے اور اس کو آباد رکھیے، مسجد کی خدمت کرنا اور اس کو آباد رکھنا ایمان کی علامت ہے۔ اللہ کا ارشاد ہے:

’’اللہ کی مسجد کو وہی لوگ آباد رکھتے ہیں جو اللہ پر اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتے ہیں‘‘۔

-3 فرض نمازیں ہمیشہ مسجد میں جماعت سے پڑھیے۔ مسجد میں جماعت اور اذان کا باقاعدہ نظم رکھیے اور مسجد کے نظام سے اپنی پوری زندگی کو منظم کیجیے۔ مسجد ایک ایسا مرکز ہے کہ مومن کی پوری زندگی اسی کے گرد گھومتی ہے۔ نبیؐ نے فرمایا:

’’مسلمانوں میں بعض لوگ وہ ہیں جو مسجدوں میں جمے رہتے ہیں اور وہاں سے ہٹتے نہیں ہیں، فرشتے ایسے لوگوں کے ہم نشین ہوتے ہیں۔ اگر یہ لوگ غائب ہوجائیں تو فرشتے ان کو تلاش کرتے پھرتے ہیں اور اگر بیمار پڑ جائیں تو فرشتے ان کی بیمار پرسی کرتے ہیں اور اگر کسی کام میں لگے ہوں تو فرشتے ان کی مدد کرتے ہیں۔ مسجد میں بیٹھنے والا اللہ کی رحمت کا منتظر ہوتا ہے۔ (مسند احمد)

-4مسجد میں نماز کے لیے ذوق و شوق سے جایئے۔ نبیؐ نے فرمایا صبح و شام مسجد میں نماز کے لیے جانا ایسا ہے جیسے جہاد کے لیے جانا۔ اور یہ بھی فرمایا جو لوگ صبح کے اندھیرے میں مسجد کی طرف جاتے ہیں قیامت میں ان کے ساتھ کامل روشنی ہوگی، اور یہ بھی فرمایا نماز باجماعت کے لیے مسجد میں جانے والے کا ہر قدم ایک نیکی کو واجب اور ایک گناہ کو مٹاتا ہے۔ (ابن حبان)

-5 مسجد کو صاف ستھرا رکھیے، مسجد میں جھاڑو دیجیے، کوڑا کرکٹ صاف کیجیے، خوشبو لگایئے، خاص طور پر جمعہ کے دن مسجد کو خوشبو میں بسانے کی کوشش کیجیے۔ نبیؐ کا ارشاد ہے مسجد میں جھاڑو دینا، مسجد کو پاک صاف رکھنا، مسجد کا کوڑا کرکٹ باہر پھینکنا، مسجد میں خوشبو سلگانا، بالخصوص جمعہ کے دن مسجد کو خوشبو میں بسانا جنت میں لے جانے والے کام ہیں۔ (ابن ماجہ)

اور نبیؐ نے یہ بھی فرمایا: ممسجد کا کوڑا کرکٹ صاف کرنا حسین آنکھوں والی حور کا مہر ہے (طبرانی)

-6 مسجد میں ڈرتے لرزتے جایئے۔ داخل ہوتے وقت السلام علیکم کہیے اور خاموش بیٹھ کر اس طرح ذکر کیجیے کہ اللہ کی عظمت و جلال آپ کے دل پر چھایا ہوا ہو۔ ہنستے بولتے غفلت کے ساتھ مسجد میں داخل ہونا غافلوں اور بے ادبوں کا کام ہے جن کے دل اللہ کے خوف سے خالی ہیں۔ بعض لوگ امام کے ساتھ رکوع میں شریک ہونے اور رکعت پالینے کے لیے مسجد میں ڈورتے ہیں، یہ مسجد کے احترام کے خلاف ہے۔ رکعت ملے یا نہ ملے سنجیدگی، وقار اور عاجزی کے ساتھ مسجد میں چلیے اور بھاگ دوڑ سے پرہیز کیجیے۔

-7 مسجد میں سکون سے بیٹھیے اور دنیا کی باتیں نہ کیجیے، مسجد میں شور مچانا، ٹھٹھا مذاق کرنا، بازار کے بھائو پوچھنا اور بتانا، دنیا کے حالات پر تبصرہ کرنا اور خرید و فروخت کا بازار گرم کرنا مسجد کی بے حرمتی ہے۔ مسجد اللہ کی عبادت کا گھر ہے اس میں صرف عبادت کیجیے۔

-8 مسجد میں ایسے چھوٹے بچوں کو نہ لے جایئے جو مسجد کے احترام کا شعور نہ رکھتے ہوں اور مسجد میں پیشاب، پاخانہ کریں یا تھوکیں۔

-9 مسجد کو گزرگاہ نہ بنایئے مسجد کے دروازے میں داخل ہونے کے بعد مسجد کا یہ حق ہے کہ آپ اس میں نماز پڑھیں یا بیٹھ کر ذکر و تلاوت کریں۔

-10 اگر آپ کی کوئی چیز کہیں باہر گم ہوجائے تو اس کا اعلان مسجد میں نہ کیجیے، نبیؐ کی مسجد میں اگر کوئی شخص اس طرح اعلان کرتا تو آپؐ ناراض ہوتے اور یہ کلمہ فرماتے:

’’خدا تجھ کو تیری گمی ہوئی چیز نہ ملائے‘‘۔

-11 مسجد میں داخل ہوتے وقت پہلے دایاں پائوں رکھیے اور نبیؐ پر درود سلام بھیجیے پھر یہ دعا پڑھیے نبیؐ کا ارشاد ہے جب تم میں سے کوئی مسجد میں آجائے تو پہلے نبیؐ پر درود و سلام بھیجے اور پھر یہ دعا پڑھے:

اللّهُمَّ افْتَحْ لِي أَبْوَابَ رَحْمَتِكَ(مسلم)

’’الٰہی! میرے لیے اپنے رحمت کے دروازے کھول دے‘‘۔

اور مسجد میں داخل ہونے کے بعد دو رکعت نفل پڑھیے اس نفل کو تحیۃ المسجد کہتے ہیں۔ اسی طرح جب کبھی سفر سے واپسی ہو تو سب سے پہلے مسجد پہنچ کر دو رکعت نفل پڑھیے اور اس کے بعد گھر جایئے، نبیؐ جب سفر سے واپس آتے تو پہلے مسجد میں جاکر نفل پڑھتے اور پھر اپنے گھر تشریف لے جاتے۔

-12 مسجد سے نکلتے وقت بایاں پائوں باہر رکھے اور یہ دعا پڑھیے:

اَللّٰھُمَّ إِنِّی أَسْأَ لُکَ مِنْ فَضْلِکَ(مسلم)

’’الٰہی! میں تجھ سے تیرے فضل و کرم کا سوال کرتا ہوں‘‘۔

-13 مسجد میں باقاعدہ اذان اور نماز باجماعت کا نظم قائم کیجیے اور مؤذن اور امام ان لوگوں کو بنایئے جو دین و اخلاق میں بحیثیت مجموعی سب سے بہتر ہوں۔ جہاں تک ممکن ہو کوشش کیجیے کہ ایسے لوگ اذان اور امامت کے فریضے انجام دیں جو معاوضہ نہ لیں اور اپنی خوشی سے اجر آخرت کی طلب میں ان فرائض کو انجام دیں۔

-14اذان کے بعد یہ دعا پڑھیے، نبیؐ نے فرمایا جس شخص نے اذان سن کر یہ دعا مانگی قیامت کے روز وہ میری شفاعت کا حق دار ہوگا (بخاری)

’’الٰہی! میں اس دعوت کامل اور اس کھڑی ہونے والی نماز کے مالک! محمدؐ کو اپنا قرب اور فضیلت عطا فرما اور ان کو اس مقام محمود پر فائز کر جس کا تو نے ان سے وعدہ فرمایا ہے‘‘۔ (بخاری)

-15 مؤذن جب اذان دے رہا ہو تو اس کے کلمات سن سن کر آپ بھی دہرایئے، البتہ جب وہ

حَی عَلی الصَّلاةِاور حَیّ عَلی الْفَلاحِ کہے تو اس کے جواب میں کہیے لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِٱللَّٰهِ ٱلْعَلِيِّ ٱلْعَظِيمِاور اور فجر کی نماز میں جب مؤذناَلصَّلٰوۃُ خَیْرٌ مِّنَ النَّوْم کہے تو جواہ میں یہ کلمات کہیے: صدقت و بررت…تم نے سچ کہا اور بھلائی کی بات کی۔

-16 تکبیر کہنے والا جب”قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ کہے کہے تو جواب میں یہ کلمات کہیے اقامہا اللہ وادمہا… اللہ اسے ہمیشہ قائم رکھے۔

-17 عورتیں مسجدوں میں جانے کے بجائے گھر میں ہی نماز ادا کریں۔ ایک بار ابو حمید ساعدیؓ کی بیوی نے نبیؐ سے عرض کیا یا رسولؐ اللہ مجھے آپ کے ساتھ نماز پڑھنے کا بڑا شوق ہے۔ آپؐ نے فرمایا مجھے تمہارا شوق معلوم ہے لیکن تمہارا کوٹھڑی میں نماز پڑھنا اس سے بہتر ہے کہ تم دالان میں نماز پڑھو اور دالان میں نماز پڑھنا اس سے بہتر ہے کہ صحن میں پڑھو۔

البتہ عورتوں کو مسجد کی ضروریات پوری کرنے کی امکان بھرکوشش کرنی چاہیے۔ پانی کا انتظام، چٹائی کا انتظام اور خوشبو وغیرہ کا سامان بھیجیں اور مسجد سے دلی تعلق قائم رکھیں۔

سجدہ میں جاتے ہوئے زمین پر اعضا رکھنے کی ترتیب

 سجدہ میں جاتے ہوئے زمین پر اعضا رکھنے کی ترتیب 



سوال

 نماز میں  جب رکوع سے سجدہ کرتے ہیں تو پہلے کیا چیز زمین پر رکھیں پیر یا ہاتھ؟ مہربانی فرما کر حدیث بھی بیان فرما دیجیے گا!


جواب
نماز میں سجدہ میں جانے اور سجدہ سے کھڑے ہونے کی کیفیت یہ ہے کہ سجدہ میں جاتے ہوئے سب سے پہلے وہ عضو رکھے جو زمین سے زیادہ قریب ہے اور سجدہ سے اٹھتے ہوئے وہ عضو سب سے پہلے اٹھائے جو آسمان سے زیادہ قریب ہے، لہذا سجدہ میں جاتے ہوئے سب سے پہلے پاؤں کے گھٹنے رکھے پھر ہاتھ اور پھر چہرہ، اور چہرہ میں بھی پہلے ناک اور پھر پیشانی، اور سجدہ سے اٹھتے ہوئے اس کے بالکل برعکس پہلے چہرہ اٹھائے پھر ہاتھ اور پھر گھٹنے، اور جمہور علماءِ کرام کا یہی مذہب ہے کہ سجدہ کرنے والا پہلے زمین پر گھٹنے رکھے گا اور پھر اس کے بعد ہاتھ رکھے گا، اور جب سجدہ سے اٹھے گا تو پہلے ہاتھ اٹھائے گا اور پھر گھٹنے۔

 حدیث مبارک میں ہے؛  حضرت وائل بن حجر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں : "میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ جب وہ سجدہ کرتے تھے  تو اپنے ہاتھوں سے پہلے پاؤں کے گھٹنے رکھتے تھے ، اور جب سجدہ سے اٹھتے تھے تو پاؤں کے گھٹنوں سے پہلے اپنے ہاتھ اٹھاتے تھے"۔

"عن وائل بن حجر، قال: «رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا سجد يضع ركبتيه قبل يديه، وإذا نهض رفع يديه قبل ركبتيه»". (سنن الترمذي 2/ 56)
ذکر علماؤنا في كيفية السجود والقيام منه: أن يضع أولاً ما كان أقرب إلى الأرض عند السجود ، وأن يرفع أولاً ما كان أقرب إلى السماء ؛ فيضع أولاً ركبتيه ثم يديه ثم وجهه، ويضع أنفه ثم جبهته، والنهوض بعكسه. وذهب أكثر أهل العلم إلى أن يضع الساجد ركبتيه قبل يديه، وإذا نهض رفع يديه قبل ركبتيه ...  قال أبو حنيفة والشافعي وأحمد بوضع اليدين بعد الركبتين في السجود ، وهو مذهب الثوري ، وإسحاق ، وعامة الفقهاء، وسائر أهل الكوفة وهي رواية عن مالك ، وبه قال عمر الفاروق وابن مسعود، ومن التابعين : مسلم بن يسار وأبو قلابة، وابن سيرين. وقال مالك بعكس ذلك ، وهو مذهب الأوزاعي ورواية عن أحمد.

واستدل الجمهور بحديث وائل بن حجر أنه قال: «رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا سجد يضع ركبتيه قبل يديه ، وإذا نهض رفع يديه قبل ركبتيه». وقد أخرج هذا الحديث الترمذي  وأبو داؤد وابن ماجه والنسائي وأحمد والدارمي وابن خزيمة وابن حبان وصححه، وابن السكن والدار قطني  والحاكم وصححه  على شرط مسلم، وسكت عليه الذهبي. وقال الترمذي : «هذا حديث حسن غريب، لا نعرف أحداً رواه غير شريك.» والشريك هو ابن عبد الله النخعي أبو عبد الله الكوفي القاضي روى له مسلم في صحيحه في المتابعات، كما ذكره الذهبي  في الميزان، (1۔446) والحافظ في التهذيب (4۔337) وأخرج له الأربعة، وصرحوا بأن تغير حفظه منذ ولي القضاء بالكوفة أي بعد قضائه بواسط، وسماع المتقدمين منه صحيح ليس فيه تخليط.

ورجح هذه الرواية الخطابي ، والبغوي ، والطيبي  ، وابن سيد الناس اليعمري بأنه أصح وأثبت ، ووجهه ابن حجر كما في "المرقاة" : قال ابن حجر: ووجه كونه أثبت أن جماعة من الحفاظ صححوه، ولا يقدح فيه أن في سنده شريكاً القاضي، وليس بالقوي؛ لأن مسلماً روى له، فهو على شرطه على أن له طريقين آخرين فيجبرهما". (مستفاد از معارف السنن (3/29) فقط واللہ اعلم

فتوی نمبر : 143909200998

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

Tuesday, April 30, 2024

سنت بال رکھنے کی مقدار اور اس کاحکم

 سنت بال رکھنے کی مقدار اور اس کاحکم 



سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں : 

کوئی اپنے سر کے بال کان کے لو تک دراز کرے، جیسے حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی  زلف مبارک تھی تو کیا یہ سنتِ نبوی کہلائے گی یا ایک مباح چیز؟  دوسری بات یہ کہ کچھ مسلمان یہاں تک کہ کچھ علماء دین بھی اس کو تہذیب اور مناسب  وضع قطع تصور نہیں کرتے، مطلب وہ اپنی سوچ کو آقا کی سوچ پر ترجیح دیتے ہیں اور یوں بھی کہتے ہیں کہ جو لوگ اونچے قد کے ہو ں انہیں زلفیں مناسب معلوم ہوتی ہیں؛ لہذا آپ بتائیے کہ ان علماءِ دین کی بات  مانی جائے؟  یعنی بال کٹوا دیں اورآج کے طریقے کے مطابق درمیانے سائز کے بال رکھیں  جو شاید نہ حضور  سے اور نہ آپ کے صحابہ سے منقول ہیں،  بلکہ فقہاء کرام کی شرع کی روشنی میں دی ہوئی اجازت ہےیا پھر ویسی  زلفیں  رکھیں  جیسے آقا ﷺکی تھیں ؟ نیز ان لوگوں کے تعلق سے کیا حکم ہے جو زلفِ نبوی ﷺ رکھنے کوتہذیب کے خلاف سمجھتے ہوں ؟


جواب

1۔۔احادیثِ مبارکہ  سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ آپ  ﷺ  سر پر بال رکھنے کا اہتمام فرمایا کرتے تھے، عام حالت میں کانوں کی لو تک بال رکھا کرتے اور کبھی وہ بڑھ کر  کاندھے کے قریب بھی پہنچ جایا کرتے؛ اس لیے عام حالات میں بال  رکھنے کا مسنون طریقہ یہی ہے، لیکن  آپ  ﷺ  نے بال رکھنے سے متعلق بہت سی ہدایات بھی دی ہیں کہ اگر کوئی شخص بال کاٹے تو پورے کاٹے ، سر کے کچھ حصے کے بال کاٹنا اور  کچھ حصے کے بال رکھنا جیسا کہ غیر اقوام کا طریقہ ہے، یہ درست نہیں ، اسی طرح آپ ﷺ نے یہ بھی تعلیم دی کہ جو شخص بال رکھے ان کا اِکرام بھی کرے،  یعنی کنگھی اور تیل وغیرہ کا اہتمام کرے اور بال کو صاف ستھر ا رکھے اور  اس کو پراگندہ ہونے سے بچائے۔


2۔۔ بال رکھنا جس طرح سنت ہے، اسی طرح بال کاٹنے کو بھی بعض محدثین نے اور بالخصوص ہمارے فقہاءِ کرام نے سنت کہا ہے، اور ہر جمعہ بالوں کے حلق کو مستحب کہا گیا ہے۔


3۔۔حضرت علی کرم اللہ وجہہ  آپ ﷺ کا یہ ارشاد نقل کرکے کہ" جنابت کے غسل میں اگر ایک بال بھی خشک رہ گیا تو اس کا غسل نہیں ہوگا۔۔۔الخ"  فرماتے ہیں: "اسی وجہ سے میں نے اپنے  بالوں سے دشمنی کرلی، یعنی انہیں خوب جڑ سے کاٹتا ہوں،  " اور آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہمیشہ سر کے بال حلق کیا کرتے تھے، علامہ طیبی رحمہ اللہ نے اس سے استدلال کیا ہے کہ جس طرح بال رکھنا سنت ہے اسی طرح بالوں کو خوب اچھی طرح  کاٹنا بھی سنت  ہے، ایک تو اس لیے  کہ آپ ﷺ نے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے اس عمل کو دیکھا اور اس پر سکوت  فرمایا،  گویا یہ آپ ﷺ کی تقریر ہے، اور اہلِ علم خوب جانتے ہیں کہ قول  اور فعل کی طرح تقریرِ رسول اللہ ﷺ بھی حدیث ہی ہوتی ہے۔ نیز خود حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ خلفائے راشدین میں سے ہیں جن کی سنتوں کے اتباع کا بھی ہمیں حکم ہے۔ تاہم ملاعلی قاری رحمہ نے اس  کو سنت  کہنے پر اشکال کیا ہے اور حلق کو رخصت کہا ہے۔ لیکن یہ بات بھی ملحوظ رہنی چاہیے کہ حضور ﷺ کے وصال کے بعد بھی حضرت علی رضی اللہ عنہ کا یہی معمول رہا اور کسی بھی صحابی رضی اللہ عنہ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے اس فعل پر کبھی نکیر نہیں کی۔ نیز یہ بھی ذہن نشین رہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حج یا عمرے کے احرام سے حلال ہوتے وقت سر منڈوانے والوں کے لیے تین مرتبہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کی دعا فرمائی، اور تیسری مرتبہ کے بعد بال کاٹنے والوں کے لیے رحمت کی دعا فرمائی۔


4۔۔  علامہ نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہمارے علماء  فرماتے ہیں : اگر کسی شخص کے لیے  بال رکھ کر اس میں تیل لگانا اور خیال کرنا مشکل ہو تو  اس کے لیے حلق مستحب ہے، اور جس کے لیے  بالوں کا خیال رکھنا مشکل نہ ہو  ان کے لیے بال رکھنا افضل ہے۔


5۔۔ اگر  ولی یا سرپرست اپنے ماتحتوں کے بارے میں یہ بہتر سمجھے کہ وہ بال رکھ کر اس کا خیال نہیں رکھ سکیں گے، یا اس میں لگ کر  وہ دوسری اہم ضروریات سے غافل ہوجائیں گے، یا  تعلیمی ضرویات وغیرہ  جیسے اہم امور میں مشغولیت کی وجہ سے وہ انہیں بال کٹوانے کا حکم دے تو یہ اس کے لیے جائز ہے،  حدیث  مبارک میں ہے آپ ﷺ نے حضرت جعفر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شہادت کے تین دن بعد ان کے بچوں کو بلایا اور حلاق کو بلا کر ان سب کو گنجا کرادیا، اس حدیث کے تحت ملا علی قاری رحمہ اللہ لکھتے ہیں: باوجود یہ کہ بال رکھنا افضل ہے، آپ ﷺ نے ان بچوں کے بال اس لیے کٹوائے کہ ان کی ماں اسماء بنت عمیس شوہر کی جدائی  کی وجہ سے سخت ترین صدمہ سے دو چار تھی ، ان کو غم کی وجہ سے اتنی فرصت کہاں ملتی کہ وہ  بچوں کے بال میں تیل ، کنگھی کرتیں؛  اس  لیے آپ ﷺ نے ان کے بال کٹوادیے، اس کے بعد ملاعلی قاری رحمہ اللہ ، عبد الملک رحمہ اللہ سے نقل کرتے ہیں: یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ ولی کو اپنے ماتحت بچوں کے حلق وغیرہ کا حق ہے۔


لہذا   بڑے بال رکھنا بھی سنت ہے اور  بال کٹوانا  بھی سنت ہے،   اور  کسی کو یہ کہنا کہ بڑے قد والے  پر زلفیں اچھی لگتی ہیں ، یا سنت کے مطابق بال رکھنے کو نامناسب وضع قطع قرار دینا،  درست نہیں ہے ، باقی جو شخص زلفیں رکھنا چاہے اسے چاہیے کہ وہ درج ذیل باتوں  کا اہتمام کرے:


1- بال سنت کی پیروی میں رکھے، نہ کہ اپنے نفس کی خواہش اور چاہت پوری کرنے کے لیے۔

2- کاندھے سے نیچے تک بال نہ  رکھے، بلکہ عمومی احوال میں کانوں کی لو تک بال رکھے۔

3- بالوں کو صاف ستھرا رکھے، ان کا اکرام کرے۔

4- یہ ذہن نشین رکھے کہ زلفین رکھنا بلاشبہ سنت ہے، لیکن یہ سنت ایسی نہیں جیسے داڑھی رکھنا سنت ہے کہ اسے مونڈنا یا ایک مشت سے کم کرنا جائز ہی نہیں ہے، بلکہ یہ ایسے ہی سنت ہے جیسے عمامہ پہننا رسول اللہ ﷺ کی سنت ہے کہ کوئی اس پر اتباعِ سنت کی نیت سے عمل کرے تو اجر ہے، لیکن اسے سنت اور اچھا سمجھنے کے باوجود اختیار نہ کرے تو گناہ نہیں ہے۔ نیز داڑھی بڑھانے کا حکم رسول اللہ ﷺ نے دیا ہے، اور فقہاءِ کرام نے روایات کی روشنی میں داڑھی کی کم سے کم مقدار ایک مشت بیان فرمائی ہے، اور یہ بھی صراحت کی ہے کہ  ایک مشت سے زائد اتنی ہی داڑھی رکھی جاسکتی ہے، جس سے شخصی وجاہت اور وقار متاثر نہ ہو، ورنہ اسے کاٹنا ہی چاہیے، اور یہ مقدار ہر شخص کے اعتبار سے الگ  ہوسکتی ہے، بعض لوگوں کے ساتھ  قدرے طویل داڑھی بھی خوب صورت معلوم ہوتی ہے، جب کہ بعض لوگوں کے اعتبار سے مشت سے تھوڑی سی بھی زیادہ مقدار نامناسب معلوم ہوتی ہے، لہٰذا اس موقع پر اگر کوئی سمجھانے کے لیے اتنی مقدار کو نامناسب کہے تو وہ فی نفسہ داڑھی کو نامناسب کہنا نہیں ہوتا، بلکہ اس شخص کے لیے مشت سے  زائد داڑھی کو نامناسب کہنا ہوتاہے، اسی طرح سر کے بال رکھنے میں ہر شخص ایک جیسا نہیں ہے، بعض افراد کے  بال گردن یا کاندھے تک پہنچ جائیں تو بھی خوب صورت معلوم ہوتے ہیں، اور بعض افراد کے بال کانوں کی لو سے نیچے ہوں تو مناسب معلوم نہیں ہوتے، اور بعض لوگ بالوں کی وضع ایسی بنالیتے ہیں کہ وہ مناسب معلوم نہیں ہوتے، لہٰذا اگر اس موقع پر کوئی عالم از راہِ نصیحت کسی کو سمجھاتا ہے تو وہ سنتِ رسول اللہ ﷺ کو غلط نہیں کہہ رہا ہوتا، بلکہ اس شخص کے اعتبار سے اس کے وقار کے متاثر ہونے کی بات کرتا ہے۔ 

مشكاة المصابيح (2/ 1265):


"وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ كَانَ لَهُ شعرٌ فليُكرمه» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد".

مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح (7/ 2827):

"(وعن أبي هريرة أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: " من كان له شعر) : بفتح العين ويسكن، والظاهر أن المراد به شعر الرأس (فليكرمه) : أي فليزينه ولينظفه بالغسل والتدهين ولا يتركه متفرقاً ؛ فإن النظافة وحسن المنظر محبوب".

كنز العمال (6/ 641):


"17176- "أكرم شعرك وأحسن إليه". "ن عن أبي قتادة".

17177- "أكرموا الشعر". "البزار عن عائشة".

17178- "إن اتخذت شعرا فأكرمه". "هب عن جابر".

سنن أبي داود (4/ 83):

" عن عبد الله بن جعفر، أن النبي صلى الله عليه وسلم أمهل آل جعفر ثلاثاً أن يأتيهم، ثم أتاهم، فقال: «لا تبكوا على أخي بعد اليوم» ، ثم قال: «ادعوا لي بني أخي» ، فجيء بنا كأنا أفرخ، فقال: «ادعوا لي الحلاق» ، فأمره فحلق رءوسنا".

مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح (7/ 2834):

"(فقال: ادعوا لي) : أي لأمري (الحلاق) : أي المزين (فأمره) : أي بعد مجيئه (فحلق رءوسنا) . وإنما حلق رءوسهم مع أن إبقاء الشعر أفضل إلا بعد فراغ أحد النسكين على ما هو المعتاد على الوجه الأكمل؛ لما رأى من اشتغال أمهم أسماء بنت عميس عن ترجيل شعورهم بما أصابها من قتل زوجها في سبيل الله، فأشفق عليهم من الوسخ والقمل. قال ابن الملك: وهذا يدل على أن للولي التصرف في الأطفال حلقاً وختاناً. (رواه أبو داود، والنسائي)".

سنن أبي داود (1/ 65):

"عن علي رضي الله عنه، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «من ترك موضع شعرة من جنابة لم يغسلها فعل بها كذا وكذا من النار». قال علي: فمن ثم عاديت رأسي ثلاثاً، وكان يجز شعره".

مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح (2/ 430):

"(عاديت رأسي) : مخافة أن لا يصل الماء إلى جميع شعري، أي: عاملت مع رأسي معاملة المعادي مع العدو، من القطع والجز، فجززته وقطعته، وروى الدارمي وأبو داود في آخر هذا الحديث: أنه كان يجز شعره، وقيل: عاديت رأسي، أي: شعري، كذا نقله السيد جمال الدين. وعن أبي عبيدة: عاديت شعري رفعته عند الغسل (فمن ثم عاديت رأسي) : أي: فعلت برأسي ما يفعل بالعدو من الاستئصال وقطع دابره ". قال الطيبي: وفيه أن المداومة على حلق الرأس سنة ؛ لأنه صلى الله عليه وسلم قرّره، ولأن علياً رضي الله تعالى عنه من الخلفاء الراشدين الذين أمرنا بمتابعة سنتهم اهـ.

ولا يخفى أن فعله كرم الله وجهه إذا كان مخالفاً لسنته صلى الله عليه وسلم وبقية الخلفاء من عدم الحلق إلا بعد فراغ النسك  يكون رخصةً لا سنةً، والله تعالى أعلم. ثم رأيت ابن حجر نظر في كلام الطيبي، وذكر نظير كلامي، وأطال الكلام فيه".

شرح المشكاة للطيبي الكاشف عن حقائق السنن (3/ 814):

"((وكان علي رضي الله عنه يجز شعره))، وفيه أن المداومة علي حلق الرأس سنة؛ لأنه صلى الله عليه وسلم قرره علي ذلك، ولأنه رضوان الله عليه من الخلفاء الراشدين المهديين الذين أمرنا بإتباع سنتهم، والعض عليها بالنواجذ".

شرح النووي على مسلم (7/ 167):

" قال أصحابنا: حلق الرأس جائز بكل حال، لكن إن شق عليه تعهده بالدهن والتسريح استحب حلقه، وإن لم يشق استحب تركه".

عمدة القاري شرح صحيح البخاري (3/ 37):

"حدّثنا مُحمَّدُ بنُ عَبْدِ الرَّحيم قَالَ: أخبرنَا سَعِيدُ بنُ سُلَيْمانَ قَالَ: حدّثنا عَبَّادٌ عَن ابنِ عَوْنٍ عَن ابْن سِيرينَ عَنْ أنَسٍ أنَّ رسولَ الله صلى الله عَلَيْهِ وَسلم لَمَّا حَلَقَ رَأسَهُ، كانَ أبُو طَلْحَةَ أوّلَ منْ أخَذَ مِنْ شَعَرِهِ ... بَيَان استنباط الأحكام من الأحاديث الْمَذْكُورَة: الأول: أَن فِيهِ الْمُوَاسَاة بَين الْأَصْحَاب فِي الْعَطِيَّة وَالْهِبَة. الثَّانِي: الْمُوَاسَاة لَا تَسْتَلْزِم الْمُسَاوَاة. الثَّالِث: فِيهِ تنفيل من يتَوَلَّى التَّفْرِقَة على غَيره. الرَّابِع: فِيهِ أَن حلق الرَّأْس سنة أَو مُسْتَحبَّة اقْتِدَاء بِفِعْلِهِ، عَلَيْهِ الصَّلَاة وَالسَّلَام".

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (6/ 407):

" وأما حلق رأسه ففي الوهبانية وقد قيل:

حلق الرأس في كل جمعة ... يحب وبعض بالجواز يعبر.

(قوله: وأما حلق رأسه إلخ) وفي الروضة للزندويستي: أن السنة في شعر الرأس إما الفرق أو الحلق. وذكر الطحاوي: أن الحلق سنة، ونسب ذلك إلى العلماء الثلاثة".

حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح شرح نور الإيضاح (ص: 525):

"وأما حلق الرأس ففي التتارخانية عن الطحاوي: أنه سن عند أئمتنا الثلاثة اهـ وفي روضة الزند ويستى: السنة في شعر الرأس أما الفرق وأما الحلق اهـ يعني حلق الكل إن أراد التنظيف، أو ترك الكل ليدهنه ويرجله ويفرقه؛ لما في أبي داود والنسائي عن ابن عمران أن رسول الله صلى الله عليه وسلم رأى صبياً حلق بعض رأسه وترك بعضه فقال صلى الله عليه وسلم: "احلقوه كله أو اتركوه كله". وفي الغرائب: يستحب حلق الشعر في كل جمعة".


فقط واللہ اعلم 


فتوی نمبر : 144211201707

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

سورہ فاتحہ کے بعدآمین آوازسے کہناسنت ہے یاآہستہ؟

  سورہ فاتحہ کے بعدآمین آوازسے کہناسنت ہے یاآہستہ؟  سوال: کیافرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں سورہ فاتحہ کے بعدآمین آوازسے کہناسن...