Wednesday, May 1, 2024

مسجد کے آداب

 مسجد کے آداب









1 اللہ کی نظر میں روئے زمین کا سب سے زیادہ بہتر حصہ وہ ہے جس پر مسجد تعمیر کی جائے۔ اللہ سے پیار رکھنے والے کی پہچان یہ ہے کہ وہ مسجد سے بھی پیار رکھتے ہیں۔ قیامت کے ہیبت ناک دن میں جب کہیں کوئی سایہ نہ ہوگا، اللہ اس دن اپنے اس بندے کو اپنے عرش کے سائے میں رکھے گا جس کا دل مسجد میں لگا رہتا ہو۔ نبیؐ کا ارشاد ہے وہ شخص (عرش کے سائے میں ہوگا) جس کا دل مسجد میں لگا رہتا ہو۔ (بخاری)

-2 مسجد کی خدمت کیجیے اور اس کو آباد رکھیے، مسجد کی خدمت کرنا اور اس کو آباد رکھنا ایمان کی علامت ہے۔ اللہ کا ارشاد ہے:

’’اللہ کی مسجد کو وہی لوگ آباد رکھتے ہیں جو اللہ پر اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتے ہیں‘‘۔

-3 فرض نمازیں ہمیشہ مسجد میں جماعت سے پڑھیے۔ مسجد میں جماعت اور اذان کا باقاعدہ نظم رکھیے اور مسجد کے نظام سے اپنی پوری زندگی کو منظم کیجیے۔ مسجد ایک ایسا مرکز ہے کہ مومن کی پوری زندگی اسی کے گرد گھومتی ہے۔ نبیؐ نے فرمایا:

’’مسلمانوں میں بعض لوگ وہ ہیں جو مسجدوں میں جمے رہتے ہیں اور وہاں سے ہٹتے نہیں ہیں، فرشتے ایسے لوگوں کے ہم نشین ہوتے ہیں۔ اگر یہ لوگ غائب ہوجائیں تو فرشتے ان کو تلاش کرتے پھرتے ہیں اور اگر بیمار پڑ جائیں تو فرشتے ان کی بیمار پرسی کرتے ہیں اور اگر کسی کام میں لگے ہوں تو فرشتے ان کی مدد کرتے ہیں۔ مسجد میں بیٹھنے والا اللہ کی رحمت کا منتظر ہوتا ہے۔ (مسند احمد)

-4مسجد میں نماز کے لیے ذوق و شوق سے جایئے۔ نبیؐ نے فرمایا صبح و شام مسجد میں نماز کے لیے جانا ایسا ہے جیسے جہاد کے لیے جانا۔ اور یہ بھی فرمایا جو لوگ صبح کے اندھیرے میں مسجد کی طرف جاتے ہیں قیامت میں ان کے ساتھ کامل روشنی ہوگی، اور یہ بھی فرمایا نماز باجماعت کے لیے مسجد میں جانے والے کا ہر قدم ایک نیکی کو واجب اور ایک گناہ کو مٹاتا ہے۔ (ابن حبان)

-5 مسجد کو صاف ستھرا رکھیے، مسجد میں جھاڑو دیجیے، کوڑا کرکٹ صاف کیجیے، خوشبو لگایئے، خاص طور پر جمعہ کے دن مسجد کو خوشبو میں بسانے کی کوشش کیجیے۔ نبیؐ کا ارشاد ہے مسجد میں جھاڑو دینا، مسجد کو پاک صاف رکھنا، مسجد کا کوڑا کرکٹ باہر پھینکنا، مسجد میں خوشبو سلگانا، بالخصوص جمعہ کے دن مسجد کو خوشبو میں بسانا جنت میں لے جانے والے کام ہیں۔ (ابن ماجہ)

اور نبیؐ نے یہ بھی فرمایا: ممسجد کا کوڑا کرکٹ صاف کرنا حسین آنکھوں والی حور کا مہر ہے (طبرانی)

-6 مسجد میں ڈرتے لرزتے جایئے۔ داخل ہوتے وقت السلام علیکم کہیے اور خاموش بیٹھ کر اس طرح ذکر کیجیے کہ اللہ کی عظمت و جلال آپ کے دل پر چھایا ہوا ہو۔ ہنستے بولتے غفلت کے ساتھ مسجد میں داخل ہونا غافلوں اور بے ادبوں کا کام ہے جن کے دل اللہ کے خوف سے خالی ہیں۔ بعض لوگ امام کے ساتھ رکوع میں شریک ہونے اور رکعت پالینے کے لیے مسجد میں ڈورتے ہیں، یہ مسجد کے احترام کے خلاف ہے۔ رکعت ملے یا نہ ملے سنجیدگی، وقار اور عاجزی کے ساتھ مسجد میں چلیے اور بھاگ دوڑ سے پرہیز کیجیے۔

-7 مسجد میں سکون سے بیٹھیے اور دنیا کی باتیں نہ کیجیے، مسجد میں شور مچانا، ٹھٹھا مذاق کرنا، بازار کے بھائو پوچھنا اور بتانا، دنیا کے حالات پر تبصرہ کرنا اور خرید و فروخت کا بازار گرم کرنا مسجد کی بے حرمتی ہے۔ مسجد اللہ کی عبادت کا گھر ہے اس میں صرف عبادت کیجیے۔

-8 مسجد میں ایسے چھوٹے بچوں کو نہ لے جایئے جو مسجد کے احترام کا شعور نہ رکھتے ہوں اور مسجد میں پیشاب، پاخانہ کریں یا تھوکیں۔

-9 مسجد کو گزرگاہ نہ بنایئے مسجد کے دروازے میں داخل ہونے کے بعد مسجد کا یہ حق ہے کہ آپ اس میں نماز پڑھیں یا بیٹھ کر ذکر و تلاوت کریں۔

-10 اگر آپ کی کوئی چیز کہیں باہر گم ہوجائے تو اس کا اعلان مسجد میں نہ کیجیے، نبیؐ کی مسجد میں اگر کوئی شخص اس طرح اعلان کرتا تو آپؐ ناراض ہوتے اور یہ کلمہ فرماتے:

’’خدا تجھ کو تیری گمی ہوئی چیز نہ ملائے‘‘۔

-11 مسجد میں داخل ہوتے وقت پہلے دایاں پائوں رکھیے اور نبیؐ پر درود سلام بھیجیے پھر یہ دعا پڑھیے نبیؐ کا ارشاد ہے جب تم میں سے کوئی مسجد میں آجائے تو پہلے نبیؐ پر درود و سلام بھیجے اور پھر یہ دعا پڑھے:

اللّهُمَّ افْتَحْ لِي أَبْوَابَ رَحْمَتِكَ(مسلم)

’’الٰہی! میرے لیے اپنے رحمت کے دروازے کھول دے‘‘۔

اور مسجد میں داخل ہونے کے بعد دو رکعت نفل پڑھیے اس نفل کو تحیۃ المسجد کہتے ہیں۔ اسی طرح جب کبھی سفر سے واپسی ہو تو سب سے پہلے مسجد پہنچ کر دو رکعت نفل پڑھیے اور اس کے بعد گھر جایئے، نبیؐ جب سفر سے واپس آتے تو پہلے مسجد میں جاکر نفل پڑھتے اور پھر اپنے گھر تشریف لے جاتے۔

-12 مسجد سے نکلتے وقت بایاں پائوں باہر رکھے اور یہ دعا پڑھیے:

اَللّٰھُمَّ إِنِّی أَسْأَ لُکَ مِنْ فَضْلِکَ(مسلم)

’’الٰہی! میں تجھ سے تیرے فضل و کرم کا سوال کرتا ہوں‘‘۔

-13 مسجد میں باقاعدہ اذان اور نماز باجماعت کا نظم قائم کیجیے اور مؤذن اور امام ان لوگوں کو بنایئے جو دین و اخلاق میں بحیثیت مجموعی سب سے بہتر ہوں۔ جہاں تک ممکن ہو کوشش کیجیے کہ ایسے لوگ اذان اور امامت کے فریضے انجام دیں جو معاوضہ نہ لیں اور اپنی خوشی سے اجر آخرت کی طلب میں ان فرائض کو انجام دیں۔

-14اذان کے بعد یہ دعا پڑھیے، نبیؐ نے فرمایا جس شخص نے اذان سن کر یہ دعا مانگی قیامت کے روز وہ میری شفاعت کا حق دار ہوگا (بخاری)

’’الٰہی! میں اس دعوت کامل اور اس کھڑی ہونے والی نماز کے مالک! محمدؐ کو اپنا قرب اور فضیلت عطا فرما اور ان کو اس مقام محمود پر فائز کر جس کا تو نے ان سے وعدہ فرمایا ہے‘‘۔ (بخاری)

-15 مؤذن جب اذان دے رہا ہو تو اس کے کلمات سن سن کر آپ بھی دہرایئے، البتہ جب وہ

حَی عَلی الصَّلاةِاور حَیّ عَلی الْفَلاحِ کہے تو اس کے جواب میں کہیے لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِٱللَّٰهِ ٱلْعَلِيِّ ٱلْعَظِيمِاور اور فجر کی نماز میں جب مؤذناَلصَّلٰوۃُ خَیْرٌ مِّنَ النَّوْم کہے تو جواہ میں یہ کلمات کہیے: صدقت و بررت…تم نے سچ کہا اور بھلائی کی بات کی۔

-16 تکبیر کہنے والا جب”قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ کہے کہے تو جواب میں یہ کلمات کہیے اقامہا اللہ وادمہا… اللہ اسے ہمیشہ قائم رکھے۔

-17 عورتیں مسجدوں میں جانے کے بجائے گھر میں ہی نماز ادا کریں۔ ایک بار ابو حمید ساعدیؓ کی بیوی نے نبیؐ سے عرض کیا یا رسولؐ اللہ مجھے آپ کے ساتھ نماز پڑھنے کا بڑا شوق ہے۔ آپؐ نے فرمایا مجھے تمہارا شوق معلوم ہے لیکن تمہارا کوٹھڑی میں نماز پڑھنا اس سے بہتر ہے کہ تم دالان میں نماز پڑھو اور دالان میں نماز پڑھنا اس سے بہتر ہے کہ صحن میں پڑھو۔

البتہ عورتوں کو مسجد کی ضروریات پوری کرنے کی امکان بھرکوشش کرنی چاہیے۔ پانی کا انتظام، چٹائی کا انتظام اور خوشبو وغیرہ کا سامان بھیجیں اور مسجد سے دلی تعلق قائم رکھیں۔

سورہ فاتحہ کے بعدآمین آوازسے کہناسنت ہے یاآہستہ؟

  سورہ فاتحہ کے بعدآمین آوازسے کہناسنت ہے یاآہستہ؟  سوال: کیافرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں سورہ فاتحہ کے بعدآمین آوازسے کہناسن...