Wednesday, May 1, 2024

سورہ فاتحہ کے بعدآمین آوازسے کہناسنت ہے یاآہستہ؟

 

سورہ فاتحہ کے بعدآمین آوازسے کہناسنت ہے یاآہستہ؟ 




سوال:


کیافرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں سورہ فاتحہ کے بعدآمین آوازسے کہناسنت ہے یاآہستہ؟



جواب نمبر: 175668

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa : 393-317/D=05/1441


نماز میں سورہٴ فاتحہ کے بعد آمین کہنا بالاتفاق مسنون ہے، اور علماء کا اس پر بھی اتفاق ہے کہ سری اور انفرادی نمازوں میں آمین آہستہ کہی جائے گی، جہری نمازوں میں اختلاف ہے، اور یہ اختلاف جواز و عدم جواز کا نہیں، بلکہ اولیٰ و غیر اولیٰ کا ہے، احناف و مالکیہ کے نزدیک جہری نمازوں میں آہستہ آمین کہی جائے گی، احناف کا یہ موقف قرآن و حدیث سے موٴید ہے، لفظ آمین ایک دعا ہے جس کے معنی ہیں: اے اللہ! تو قبول فرما، اور آیت قرآنی سے پتہ چلتا ہے کہ دعا میں اصل اور افضل آہستہ مانگنا ہے، 


قال تعالی: ادعوا ربکم تضرعاً وخفیة ۔



 ترجمہ: پکارو اپنے رب کو گڑگڑا کر اور چپکے سے۔


 ترمذی کی حدیث ہے: 


عن علقمة بن وائل عن أبیہ أن النبي - صلی اللہ علیہ وسلم - قرأ غیر المغضوب علیہم ولا الضالین ، فقال آمین وخفض بہا صوتہ ۔ (ترمذی: ۱/۳۴، باب ما جاء في التأمین، رقم: ۲۴۸) 



امام طبری فرماتے ہیں: اکثر صحابہ و تابعین آہستہ سے کہا کرتے تھے۔ (اعلاء السنن: ۲/۲۲۳)



واللہ تعالیٰ اعلم

مسجد کے آداب

 مسجد کے آداب









1 اللہ کی نظر میں روئے زمین کا سب سے زیادہ بہتر حصہ وہ ہے جس پر مسجد تعمیر کی جائے۔ اللہ سے پیار رکھنے والے کی پہچان یہ ہے کہ وہ مسجد سے بھی پیار رکھتے ہیں۔ قیامت کے ہیبت ناک دن میں جب کہیں کوئی سایہ نہ ہوگا، اللہ اس دن اپنے اس بندے کو اپنے عرش کے سائے میں رکھے گا جس کا دل مسجد میں لگا رہتا ہو۔ نبیؐ کا ارشاد ہے وہ شخص (عرش کے سائے میں ہوگا) جس کا دل مسجد میں لگا رہتا ہو۔ (بخاری)

-2 مسجد کی خدمت کیجیے اور اس کو آباد رکھیے، مسجد کی خدمت کرنا اور اس کو آباد رکھنا ایمان کی علامت ہے۔ اللہ کا ارشاد ہے:

’’اللہ کی مسجد کو وہی لوگ آباد رکھتے ہیں جو اللہ پر اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتے ہیں‘‘۔

-3 فرض نمازیں ہمیشہ مسجد میں جماعت سے پڑھیے۔ مسجد میں جماعت اور اذان کا باقاعدہ نظم رکھیے اور مسجد کے نظام سے اپنی پوری زندگی کو منظم کیجیے۔ مسجد ایک ایسا مرکز ہے کہ مومن کی پوری زندگی اسی کے گرد گھومتی ہے۔ نبیؐ نے فرمایا:

’’مسلمانوں میں بعض لوگ وہ ہیں جو مسجدوں میں جمے رہتے ہیں اور وہاں سے ہٹتے نہیں ہیں، فرشتے ایسے لوگوں کے ہم نشین ہوتے ہیں۔ اگر یہ لوگ غائب ہوجائیں تو فرشتے ان کو تلاش کرتے پھرتے ہیں اور اگر بیمار پڑ جائیں تو فرشتے ان کی بیمار پرسی کرتے ہیں اور اگر کسی کام میں لگے ہوں تو فرشتے ان کی مدد کرتے ہیں۔ مسجد میں بیٹھنے والا اللہ کی رحمت کا منتظر ہوتا ہے۔ (مسند احمد)

-4مسجد میں نماز کے لیے ذوق و شوق سے جایئے۔ نبیؐ نے فرمایا صبح و شام مسجد میں نماز کے لیے جانا ایسا ہے جیسے جہاد کے لیے جانا۔ اور یہ بھی فرمایا جو لوگ صبح کے اندھیرے میں مسجد کی طرف جاتے ہیں قیامت میں ان کے ساتھ کامل روشنی ہوگی، اور یہ بھی فرمایا نماز باجماعت کے لیے مسجد میں جانے والے کا ہر قدم ایک نیکی کو واجب اور ایک گناہ کو مٹاتا ہے۔ (ابن حبان)

-5 مسجد کو صاف ستھرا رکھیے، مسجد میں جھاڑو دیجیے، کوڑا کرکٹ صاف کیجیے، خوشبو لگایئے، خاص طور پر جمعہ کے دن مسجد کو خوشبو میں بسانے کی کوشش کیجیے۔ نبیؐ کا ارشاد ہے مسجد میں جھاڑو دینا، مسجد کو پاک صاف رکھنا، مسجد کا کوڑا کرکٹ باہر پھینکنا، مسجد میں خوشبو سلگانا، بالخصوص جمعہ کے دن مسجد کو خوشبو میں بسانا جنت میں لے جانے والے کام ہیں۔ (ابن ماجہ)

اور نبیؐ نے یہ بھی فرمایا: ممسجد کا کوڑا کرکٹ صاف کرنا حسین آنکھوں والی حور کا مہر ہے (طبرانی)

-6 مسجد میں ڈرتے لرزتے جایئے۔ داخل ہوتے وقت السلام علیکم کہیے اور خاموش بیٹھ کر اس طرح ذکر کیجیے کہ اللہ کی عظمت و جلال آپ کے دل پر چھایا ہوا ہو۔ ہنستے بولتے غفلت کے ساتھ مسجد میں داخل ہونا غافلوں اور بے ادبوں کا کام ہے جن کے دل اللہ کے خوف سے خالی ہیں۔ بعض لوگ امام کے ساتھ رکوع میں شریک ہونے اور رکعت پالینے کے لیے مسجد میں ڈورتے ہیں، یہ مسجد کے احترام کے خلاف ہے۔ رکعت ملے یا نہ ملے سنجیدگی، وقار اور عاجزی کے ساتھ مسجد میں چلیے اور بھاگ دوڑ سے پرہیز کیجیے۔

-7 مسجد میں سکون سے بیٹھیے اور دنیا کی باتیں نہ کیجیے، مسجد میں شور مچانا، ٹھٹھا مذاق کرنا، بازار کے بھائو پوچھنا اور بتانا، دنیا کے حالات پر تبصرہ کرنا اور خرید و فروخت کا بازار گرم کرنا مسجد کی بے حرمتی ہے۔ مسجد اللہ کی عبادت کا گھر ہے اس میں صرف عبادت کیجیے۔

-8 مسجد میں ایسے چھوٹے بچوں کو نہ لے جایئے جو مسجد کے احترام کا شعور نہ رکھتے ہوں اور مسجد میں پیشاب، پاخانہ کریں یا تھوکیں۔

-9 مسجد کو گزرگاہ نہ بنایئے مسجد کے دروازے میں داخل ہونے کے بعد مسجد کا یہ حق ہے کہ آپ اس میں نماز پڑھیں یا بیٹھ کر ذکر و تلاوت کریں۔

-10 اگر آپ کی کوئی چیز کہیں باہر گم ہوجائے تو اس کا اعلان مسجد میں نہ کیجیے، نبیؐ کی مسجد میں اگر کوئی شخص اس طرح اعلان کرتا تو آپؐ ناراض ہوتے اور یہ کلمہ فرماتے:

’’خدا تجھ کو تیری گمی ہوئی چیز نہ ملائے‘‘۔

-11 مسجد میں داخل ہوتے وقت پہلے دایاں پائوں رکھیے اور نبیؐ پر درود سلام بھیجیے پھر یہ دعا پڑھیے نبیؐ کا ارشاد ہے جب تم میں سے کوئی مسجد میں آجائے تو پہلے نبیؐ پر درود و سلام بھیجے اور پھر یہ دعا پڑھے:

اللّهُمَّ افْتَحْ لِي أَبْوَابَ رَحْمَتِكَ(مسلم)

’’الٰہی! میرے لیے اپنے رحمت کے دروازے کھول دے‘‘۔

اور مسجد میں داخل ہونے کے بعد دو رکعت نفل پڑھیے اس نفل کو تحیۃ المسجد کہتے ہیں۔ اسی طرح جب کبھی سفر سے واپسی ہو تو سب سے پہلے مسجد پہنچ کر دو رکعت نفل پڑھیے اور اس کے بعد گھر جایئے، نبیؐ جب سفر سے واپس آتے تو پہلے مسجد میں جاکر نفل پڑھتے اور پھر اپنے گھر تشریف لے جاتے۔

-12 مسجد سے نکلتے وقت بایاں پائوں باہر رکھے اور یہ دعا پڑھیے:

اَللّٰھُمَّ إِنِّی أَسْأَ لُکَ مِنْ فَضْلِکَ(مسلم)

’’الٰہی! میں تجھ سے تیرے فضل و کرم کا سوال کرتا ہوں‘‘۔

-13 مسجد میں باقاعدہ اذان اور نماز باجماعت کا نظم قائم کیجیے اور مؤذن اور امام ان لوگوں کو بنایئے جو دین و اخلاق میں بحیثیت مجموعی سب سے بہتر ہوں۔ جہاں تک ممکن ہو کوشش کیجیے کہ ایسے لوگ اذان اور امامت کے فریضے انجام دیں جو معاوضہ نہ لیں اور اپنی خوشی سے اجر آخرت کی طلب میں ان فرائض کو انجام دیں۔

-14اذان کے بعد یہ دعا پڑھیے، نبیؐ نے فرمایا جس شخص نے اذان سن کر یہ دعا مانگی قیامت کے روز وہ میری شفاعت کا حق دار ہوگا (بخاری)

’’الٰہی! میں اس دعوت کامل اور اس کھڑی ہونے والی نماز کے مالک! محمدؐ کو اپنا قرب اور فضیلت عطا فرما اور ان کو اس مقام محمود پر فائز کر جس کا تو نے ان سے وعدہ فرمایا ہے‘‘۔ (بخاری)

-15 مؤذن جب اذان دے رہا ہو تو اس کے کلمات سن سن کر آپ بھی دہرایئے، البتہ جب وہ

حَی عَلی الصَّلاةِاور حَیّ عَلی الْفَلاحِ کہے تو اس کے جواب میں کہیے لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِٱللَّٰهِ ٱلْعَلِيِّ ٱلْعَظِيمِاور اور فجر کی نماز میں جب مؤذناَلصَّلٰوۃُ خَیْرٌ مِّنَ النَّوْم کہے تو جواہ میں یہ کلمات کہیے: صدقت و بررت…تم نے سچ کہا اور بھلائی کی بات کی۔

-16 تکبیر کہنے والا جب”قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ کہے کہے تو جواب میں یہ کلمات کہیے اقامہا اللہ وادمہا… اللہ اسے ہمیشہ قائم رکھے۔

-17 عورتیں مسجدوں میں جانے کے بجائے گھر میں ہی نماز ادا کریں۔ ایک بار ابو حمید ساعدیؓ کی بیوی نے نبیؐ سے عرض کیا یا رسولؐ اللہ مجھے آپ کے ساتھ نماز پڑھنے کا بڑا شوق ہے۔ آپؐ نے فرمایا مجھے تمہارا شوق معلوم ہے لیکن تمہارا کوٹھڑی میں نماز پڑھنا اس سے بہتر ہے کہ تم دالان میں نماز پڑھو اور دالان میں نماز پڑھنا اس سے بہتر ہے کہ صحن میں پڑھو۔

البتہ عورتوں کو مسجد کی ضروریات پوری کرنے کی امکان بھرکوشش کرنی چاہیے۔ پانی کا انتظام، چٹائی کا انتظام اور خوشبو وغیرہ کا سامان بھیجیں اور مسجد سے دلی تعلق قائم رکھیں۔

سجدہ میں جاتے ہوئے زمین پر اعضا رکھنے کی ترتیب

 سجدہ میں جاتے ہوئے زمین پر اعضا رکھنے کی ترتیب 



سوال

 نماز میں  جب رکوع سے سجدہ کرتے ہیں تو پہلے کیا چیز زمین پر رکھیں پیر یا ہاتھ؟ مہربانی فرما کر حدیث بھی بیان فرما دیجیے گا!


جواب
نماز میں سجدہ میں جانے اور سجدہ سے کھڑے ہونے کی کیفیت یہ ہے کہ سجدہ میں جاتے ہوئے سب سے پہلے وہ عضو رکھے جو زمین سے زیادہ قریب ہے اور سجدہ سے اٹھتے ہوئے وہ عضو سب سے پہلے اٹھائے جو آسمان سے زیادہ قریب ہے، لہذا سجدہ میں جاتے ہوئے سب سے پہلے پاؤں کے گھٹنے رکھے پھر ہاتھ اور پھر چہرہ، اور چہرہ میں بھی پہلے ناک اور پھر پیشانی، اور سجدہ سے اٹھتے ہوئے اس کے بالکل برعکس پہلے چہرہ اٹھائے پھر ہاتھ اور پھر گھٹنے، اور جمہور علماءِ کرام کا یہی مذہب ہے کہ سجدہ کرنے والا پہلے زمین پر گھٹنے رکھے گا اور پھر اس کے بعد ہاتھ رکھے گا، اور جب سجدہ سے اٹھے گا تو پہلے ہاتھ اٹھائے گا اور پھر گھٹنے۔

 حدیث مبارک میں ہے؛  حضرت وائل بن حجر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں : "میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ جب وہ سجدہ کرتے تھے  تو اپنے ہاتھوں سے پہلے پاؤں کے گھٹنے رکھتے تھے ، اور جب سجدہ سے اٹھتے تھے تو پاؤں کے گھٹنوں سے پہلے اپنے ہاتھ اٹھاتے تھے"۔

"عن وائل بن حجر، قال: «رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا سجد يضع ركبتيه قبل يديه، وإذا نهض رفع يديه قبل ركبتيه»". (سنن الترمذي 2/ 56)
ذکر علماؤنا في كيفية السجود والقيام منه: أن يضع أولاً ما كان أقرب إلى الأرض عند السجود ، وأن يرفع أولاً ما كان أقرب إلى السماء ؛ فيضع أولاً ركبتيه ثم يديه ثم وجهه، ويضع أنفه ثم جبهته، والنهوض بعكسه. وذهب أكثر أهل العلم إلى أن يضع الساجد ركبتيه قبل يديه، وإذا نهض رفع يديه قبل ركبتيه ...  قال أبو حنيفة والشافعي وأحمد بوضع اليدين بعد الركبتين في السجود ، وهو مذهب الثوري ، وإسحاق ، وعامة الفقهاء، وسائر أهل الكوفة وهي رواية عن مالك ، وبه قال عمر الفاروق وابن مسعود، ومن التابعين : مسلم بن يسار وأبو قلابة، وابن سيرين. وقال مالك بعكس ذلك ، وهو مذهب الأوزاعي ورواية عن أحمد.

واستدل الجمهور بحديث وائل بن حجر أنه قال: «رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا سجد يضع ركبتيه قبل يديه ، وإذا نهض رفع يديه قبل ركبتيه». وقد أخرج هذا الحديث الترمذي  وأبو داؤد وابن ماجه والنسائي وأحمد والدارمي وابن خزيمة وابن حبان وصححه، وابن السكن والدار قطني  والحاكم وصححه  على شرط مسلم، وسكت عليه الذهبي. وقال الترمذي : «هذا حديث حسن غريب، لا نعرف أحداً رواه غير شريك.» والشريك هو ابن عبد الله النخعي أبو عبد الله الكوفي القاضي روى له مسلم في صحيحه في المتابعات، كما ذكره الذهبي  في الميزان، (1۔446) والحافظ في التهذيب (4۔337) وأخرج له الأربعة، وصرحوا بأن تغير حفظه منذ ولي القضاء بالكوفة أي بعد قضائه بواسط، وسماع المتقدمين منه صحيح ليس فيه تخليط.

ورجح هذه الرواية الخطابي ، والبغوي ، والطيبي  ، وابن سيد الناس اليعمري بأنه أصح وأثبت ، ووجهه ابن حجر كما في "المرقاة" : قال ابن حجر: ووجه كونه أثبت أن جماعة من الحفاظ صححوه، ولا يقدح فيه أن في سنده شريكاً القاضي، وليس بالقوي؛ لأن مسلماً روى له، فهو على شرطه على أن له طريقين آخرين فيجبرهما". (مستفاد از معارف السنن (3/29) فقط واللہ اعلم

فتوی نمبر : 143909200998

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

سورہ فاتحہ کے بعدآمین آوازسے کہناسنت ہے یاآہستہ؟

  سورہ فاتحہ کے بعدآمین آوازسے کہناسنت ہے یاآہستہ؟  سوال: کیافرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں سورہ فاتحہ کے بعدآمین آوازسے کہناسن...